ا جنبی محافظ-ساحر لدھیانوی
Ajnabi Muhafiz by Sahir Ludhianvi
اجنبی دیس کےمضبوط گرانڈ یل جواں
او نچےہوٹل کےدرِ خاص پہ استا دہ میں
اور نیچے مرےمجبوروطن کی گلیاں
جن میں آوارہ پھراکرتےہیں بھوکوں کےہجوم
زدرچہروں پہ نقاہت کی نمود
خون میں سینکڑوں سالوں کی غلامی کاجمود
علم کےنورسےعاری ۔ محروم
فلک ِ ہندکےافسردہ ۔نجوم
جن کی تخیل کےپر
چھو نہیں سکتےہیں اس او نچی پہاڑی کاسرا
جس یہ ہوٹل کےدریچوں میں کھڑ ےہیں تن کر
اجنبی دیس کےمضبوط گرانڈیل جواں
منہ میں سگر یٹ لیے ہاتھوں میں برانڈی کا گلاس
جیب میں نقر ئی سکوں کی کھنک
بھوکے دہقانوں کے ماتھے کاعرق
رات کوجس کےعوض بکتاہے
کسی افلاس کی ماری کاتقدس ۔یعنی
کسی دوشیزۂ مجبورکی عصمت کاغرور
محفل عیش کےگونجے ہوئےایوانوں میں
اونچے ہوٹل کےشہستانوں میں
قہقہےمارتےہنستے ہوئےاستادہ ہیں
جنبی دیس کےمضبوط گرانڈ یل جواں
اسی ہوٹل کےقریب
بھوکےمجبورغلاموں کےگردہ
ٹکٹکی باندھ کےتکتےہوئےاوپرکی طرف
منتظر بیٹھےہیں اس ساعت نایاب کے جب
بوٹ کی نوک سےنیچے پھینکے
اجنبی دیس کےبےفکر جوانوں کاگروہ
کوئی سکہ،کوئی سگریٹ،کوئی کیک
یاڈبل روٹی کےجھوٹےٹکڑے
چھیناچھپٹی کےمناظرکامزہ لینے کو
پالتوکتوں کےاحساس پہ ہنس دینے کو
بھوکے مجبورغلاموں کاگروہ
ٹکٹکی باندھ کےتکتا ہوااستادہ ہے
کاش یہ بےحس وبےوقعت وبیدل نساں
روم کےظلم کی زندہ تصویر
اپناماحول بدل دینے کےقابل ہوتے
ڈیڑھ سوسال کےپابندسلاسل کتے
اینےآقاؤں سےلے سکتے خراجِ قوت
کاش یہ اپنے لیےآپ صف آراہوتے
اپنی تکلیف کاخودآپ مداواہو تے
ان کےدل میں ابھی باقی رہتا
قوی غیرت کاوجود
ان کے سنگین وسیہ سینو ں میں
گل نہ ہوتی ابھی احساس کی شمع
اور پورب سے اُمڈتے ہوئےخطرے کے لئے
یہ کرائے کےمحافظ نہ منگانےپڑتے
0 Comments