تاج محل -ساحر
لدھیانوی
Taj Mahal by Sahir Ludhianvi
تاج تیرےلیےاِک مظہرِ
اُ لفت ہی سہی
تجھ کو اس وادی رنگیں
سےعقید ت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور
ملا کرمجھ سے
بزم شاہی میں غر یبوں
کاگزر کیا معنی؟
ثبت جس راہ میں ہوں
سطوتِ شاہی کےنشاں
اس پہ اُ لفت بھری رو
حوں کاسفر کیا معنی؟
میری محبوب پس پردۂ
تشہیر ِوقا
تو نے سطوت کے نشانوں
کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر
سے بہلنےوالی
اپنےتاریک مکانوں
کوتودیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نےدنیا
میں محبت کی ہے
کون کہتا ہےکہ صادق
نہ تھےجذبے ان کے
لیکن ان کےلیے تشہیر
کا سامان نہیں
کیو نکہ وہ لوگ بھی
اپنی ہی طرح مفلس تھے
یہ عما رات و مقا بر
فصلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں
کی عظمت کےستوں
سینۂ دہر کےناسور
ہیں کہنہ ناسور
جذ ب ہےان میں ترےاور
مرےاجداد کاخوں
میری محبوب ! انہیں
بھی تومحبت ہوگی!
جن کی صنا عی نےبخشی
ہےاسےشکلِ جمیل
ان کےپیاروں
کےمقابررہے بےنام و نمود
آج تک ان پہ جلائی
نہ کسی نے قندیل
یہ چمن زاریہ جمنا کا
کنارہ یہ محل
یہ منقش در ودیواریہ
محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا
سہارا لےکر
ہم غریبوں کی محبت کا
اڑایا ہےمذاق
میری محبو ب! کہیں اور ملاکرمجھ سے
0 Comments