Tulu-e-Ishtraqiyat by Sahir Ludhianvi|طلوع اشتر اکیت-ساحر لدھیانوی

Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Tulu-e-Ishtraqiyat by Sahir Ludhianvi|طلوع اشتر اکیت-ساحر لدھیانوی

 

طلوع اشتر اکیت-ساحر لدھیانوی
Tulu-e-Ishtraqiyat by Sahir Ludhianvi

جشن بپاہےکٹیاؤں ہیں،اونچےایواں کا نپ رہے ہیں

مزدوروں کےبگڑےتیوردیکھ کےسلطاں کانپ رہے ہیں

 

جاگےہیں افلاس کےمارے،اُٹھےہیں بےبس دُکھیارے

سینوں میں طوفاں کاتلاطم،آنکھو ں میں بجلی کےشرارے

 

چوک چوک پرگلی گلی میں سرخ پھریرےلہراتےہیں

مظلو موں کےباغی لشکر سیلِ صفت اُ مڈےآتےہیں

 

شاہی درباروں کےدرسےفوجی پہرے ختم ہوئے ہیں

ذاتی جاگیروں کے حق اور مہمل دعوے ختم ہوئے ہیں

 

شورمچا ہےبازاروں میں ،ٹوٹ گئےدر زندانوں کے

واپس مانگ رہی ہےدنیا غصب شدہ حق انسا نوں کے

 

رسوا بازاری خاتونیں حقِ نسائی مانگ رہی ہیں

صدیوں کی خاموش زبانیں سحرِ نوائی مانگ رہی ہیں

 

روند ی کچلی آوازوں کےشور سےدھرتی گونج اُ ٹھی ہے

دنیاکےانیائےنگرمیں حق کی پہلی گونج اُٹھی ہے

 

جمع ہوئے ہیں چوراہوں پرآ کربھوکےاورگد اکر

ایک لپکتی آندھی بن کرایک بھبکتا شعلہ ہو کر

 

کاندھو ں پرسنگین کدالیں ہونٹوں پربےباک ترانے

دہقانوں کےدل نکلےہیں اپنی بگڑی آپ  بنانے

 

آج پرانی تدبیروں سےآگ کےشعلےتھم نہ سکیں گے

اُبھرےجذبےدب نہ سکیں گےاُکھڑےپرچم جم نہ سکیں گے

 

راج محل کےدربانوں سےیہ سر کش طوفاں نہ رُکےگا

چند کرائےکےتنکوں سےسیل بےپایاں نہ رُ کےگا

 

کانپ رہےہیں ظالم سلطاں ٹوٹ گئے دل جباروں کے

بھاگ رہےہیں ظلِ الہٰی منہ اُ ترےہیں غداروں کے

 

ایک نیاسورج چمکا ہے،ایک انوکھی ضوباری ہے

ختم ہوئی افراد کی شاہی،اب جمہور کی سالا ری ہے

 

 

 

Post a Comment

0 Comments